چار پٹھان مل کر ایک بھینس کو چھت پر چڑھا رہے تھے
ساتھ سے ایک پنجابی گزرا اور بولا خان صاحب بھینس کو چھت پر کیوں چڑھا رہے ہو
ان میں سے ایک پٹھان بولا ام اس کو چھت پر ذبح کرے گا
پنجابی بولا بھائی صاحب اس کو نیچے ذبح کر لو
پٹھان بولا وہ امارہ چھری چھت پر پڑا ہوا ہے
پٹھان چھلکے سمیت کیلا کھا رہا تھا
کسی نے ٹوک کر کہا اسے چھیل تو لو
کسی نے ٹوک کر کہا اسے چھیل تو لو
پٹھان : چھیلنے کا کیا ضرورت ہے ہم کو معلوم ہے اس میں کیلا ہے
مسجد میں چندے کی اپیل ہو رہی تھی
پنجابی اٹھ کر بولا میں 1100 دوں گا
سندھی بولا میں 1200 دوں گا
پٹھان جوش میں اٹھا اور بولا ام 1661 دے گا اس میں ٹارچ اور ایف ایم بھی ہو گا
چار پٹھان مل کر ایک بھینس کو چھت پر چڑھا رہے تھے
ساتھ سے ایک پنجابی گزرا اور بولا خان صاحب بھینس کو چھت پر کیوں چڑھا رہے ہو
ان میں سے ایک پٹھان بولا ام اس کو چھت پر ذبح کرے گا
پنجابی بولا بھائی صاحب اس کو نیچے ذبح کر لو
پٹھان بولا وہ امارہ چھری چھت پر پڑا ہوا ہے
پٹھان عید والے دن اپنے دوست سے ملنے گیا۔
دوست:عید نماز کہاں پڑھی؟
پٹھان:ساتھ والے گراونڈ میں،
عجیب نماز تھی،نا سجدہ،نارکوع،اور تو اور مولوی کے آگے کوئی چارپائی رکھ کر سو گیا۔
دوست:اوے پاگل،وہ تو جنازہ تھا کسی کا۔۔۔
پٹھان:اوہ یارا، میں تو بہت سے لوگوں کو گلے ملکر مبارک باد بھی دے آیا۔۔