analatics //ads Urdu Pathan Jokes پٹھان کے لطیفے - My World //adds

Thursday, 10 January 2019

Urdu Pathan Jokes پٹھان کے لطیفے

0 comments


پٹھان نیّا نیّا تبلیغ سے واپس آیا اور اپنی بیوی سےبحث کئی پھر اسکو مارنے لگا ۔

دوست نےپوچھا :
اُسے کیوں مار رہے ہو ؟
پٹھان بولا :
یہ داڑھی نہیں رکھتی :
دوست نے کہاکہ عورتوں کی تو داڑھی نہیں آتی :
پٹھان بولا :مجھے پتہ ہے مگر یہ " اراداہ " تو کرے




ایک رات سخت بارش ہو رہی تھی۔ اچانک ایک پٹھان کا مکان گر




گیا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان ہوا۔ اچانک بارش نے طوفان کو روپ




دھارا اور بجلی چمکنے لگی اور بادل زور زور سے گرجنے لگے۔




پٹھان پہلے ہی جلا بھنا بیٹھا تھا بول اٹھا۔ اب کیا رہ گیا ہے.




خداوندا جو بیٹری کی روشنی میں ڈھونڈ رہا ہے






ایک پٹھان ریلوے لائن پر لیٹا ہوا تھا۔ ایک صاحب کا ادھر سے گزر ہوا۔ خان صاحب سے پوچھا کہ وہ لائن پر کیوں لیٹے ہوئے ہیں۔.ہم خودکشی کر ے گانہ . خان صاحب نے جواب دیا۔

لیکن یہ ناشتے دان کیوں ساتھ رکھا ہوا ہے؟ ان صاحب نے پوچھا۔
خوچہ گاڑی لیٹ آئی تو ہم تو بھوک سے مر جائے گا




پٹھان نے ایک بچے کو اغوا کیا اور ایک چٹ پر لکھا کہ 50 لاکھ روپے کل صبح تک پل کے نیچے رکھ دو۔پھر یہ چٹ بچے پر چسپاں کر کے بچے کو گھر واپس بھیج دیا۔۔دوسرے روز پٹھان پل کے نیچے گیا تو وہاں 50 لاکھ روپےموجود تھے اور ساتھ ہی ایک چٹ تھی جس پر لکھا تھا۔۔۔ام کو پیسہ کا افسوس نہیں افسوس توبس یہ ہے کہ ایک پٹھان نے پٹھان کو لوٹا






ایک پٹھان کو کہیں سے ایک انگوٹھی مل گئی۔ اس نے اسے رگڑا تو ایک جن حاضر ہو گیا اور بولا" کیا حکم ہے میرے آقا؟"۔

پٹھان بولا" ایک خوبصورت سا بنگلہ بنا دو"۔ بنگلہ بن گیا۔ جن پھر حاضر ہوا اور بولا "اب کیا حکم ہے میرے آقا؟"۔
پٹھان بولا" اس میں خوبصورت اور بڑی بڑی کاریں کھڑی کر دو"۔ کاریں کھڑی ہو گئیں۔ جن پھر حاضر ہوا اور بولا۔" اور کیا حکم ہے میرے آقا؟"۔
پٹھان ہاتھ جوڑ کر بولا" اب مجھے اس بنگلے میں چوکیدار رکھوادو"





اک دریا کے کنارے دو سردار چمچے سے دریا میں دھی ڈال رھے تھے

پٹھان نے دیکھا تو پوچھا
یہ کیا کر رھے ھو؟
سردار :ھم لسّی بنا رھے ھیں۔
پٹھان :ھا ھا ھا
او۔۔۔۔۔ پاگل کا بچہ، لوگ اسی لیے تو تم پر لطیفے بناتا ھیں
اتنی لسّی تمھارا باپ پیے گا





ایک پٹھان اے ٹی ایم مشین سے اپنی رقم نکال رہا تھا۔ پیچھے مڑا تو دیکھا سردار ہنس رہا ہے۔ پٹھان نے پوچھا کیوں ہنس رہے ہو

سردار: میں نے تمھارا پاس ورڈ دیکھ لیا ہے۔
پٹھان بتائو کیا ہے میرا پاس ورڈ
سردار جار دفعہ****
پٹھان ہنستے ہوئے: پاگل غلط کہا ہے تُو نے۔ میرا پاس ورڈ2588 ہے





پٹھان: آج میری جمعہ کی نماز نکل گئی

دوست: وہ کیسے...
پٹھان: امام صاحب بولے۔ اپنے اپنے موبائل بند کر دیں۔
میں تو موبائل گھر پر چھوڑ آیا تھا۔ جب بند کر کے
آیا تو جماعت ہو چکی تھی





پٹھان صاحب ایک بلڈنگ میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری کے لیے انٹرویو دے رہے تھے۔

انٹرویور نے پوچھا : خان صاحب ! تصور کریں بلڈنگ کی 7ویں منزل پر آگ لگ گئی ہے۔ ہر طرف آگ ہی آگ ۔ آپ خود کو اور منزل پر موجود لوگوں‌کو بچانے کے لیے کیا کریں گے؟"
پٹھان : " او صاب ! اسکا حل تو بہت آسان ہے۔ "
انٹرویور : (حیرانگی سے) اچھا۔ وہ کیسے ؟"
پٹھان : " اوئے جناب ! ام تصور کرنا بند کردے گا





دو پٹھان جلدی جلدی مسجد میں داخل ہوئے۔

جلدی سے جوتے اتار کر گرتے پڑتے صف میں شامل ہو گئے ۔
نماز کے بعد پہلا پٹھان دوسرے سے کہتا ہے کے شکر ہے نماز نہیں نکلی
دوسرا جواب دیتا ہے
ہاں یار
اگر وضو کے چکر میں رہتے تو نماز نکل جاتی





ایک پٹھان کونےمیں چھپ کر موبائل پر کسی سے آہستہ آہستہ بات کر رہا تھا

ایک دوست نے دیکھ لیا اور بولا
خان صاحب لڑکی سے باتیں ہو رہی ہیں
پٹھان خدا کا قسم لڑکی نہیں ہے میری منگیتر ہے





ایک پٹھان لڑکی سے "مجھ سے شادی کرو ، تم کو ثواب ملے گا 

لڑکی : وہ کیسے؟
پٹھان۔۔۔ "مجھ سے شادی کرو ۔۔۔ ہمارا بیٹا ہو گا۔۔۔ ہم اس کا نام ثواب رکھے گا ۔





ایک پٹھان نیا نیا شہر میں آیا اور اس نے ایک آدمی سے پوجھا کہ پی سی او کہاں ہے

اس آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے پی سی او ہے
پٹھان نے اس آدمی کا شکریہ ادا کیا اور پی سی او میں داخل ہوگیا
پی سی او میں جانے کہ بعد اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اپنے دوست سے بات کرنے لگا بات ختم کرنے کے بعد وہ پی سی او سے پاہر آگیا
پی سی او کے مالک کو بڑی حیرت ہوئی اور اس نے پٹھان سے پوچھا کہ
بھائی جب تمہارے پاس موبائل تھا تو پھر پی سی او آنے کی کیا ضرورت تھی
پٹھان بولا
اوہ یارا میرے دوست نے مجھ کو بولا تھا کہ پی سی او سےجا کر فون کرنا خرچہ کم آئے گا






ایک محفل میں شبیر حسن خان المعروف جوش ملیح آبادی اپنی نظم سنا رہے تھے تو کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

دیکھیے کم بخت پٹھان ہو کر کیسے عمدہ شعر پڑھ رہا ہے۔
جوش صاحب نے فورا جواب دیا۔
اور دیکھو، ظالم سکھ ہو کر کیسی اچھی داد دے رہا ہے۔






ڈاکٹر پٹھان سے.... تم ہر روز کلينک ميں آکر عورتوں کو گھورتے ہو

پٹھان.... ڈاکٹر صاحب آپ نے خود ہی کلينک کے باہر لکھا ہوا ہے
عورتوں کو ديکھنے کا ٹائم 9 سے 12 بجے تک





ایک پٹھان نے ایک بزرگ آدمی سے کچھ پوچھا

بزرگ نے دو تھپڑ لگا دیئے،
ایک آدمی قریب ھی کھڑا تھا اس نے پٹھان سے پوچھا
تم نے اس آدمی کو کیا بولا تھا۔
پٹھان نے کہا، میں نے صرف پوچھا کہ چودہ اگست کی
نماز کھاں ھوگی؟





ایک پٹھان ٹی وی کے سامنے بیٹھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔

اس کی بیوی نے پوچھا کیا سوچ رہے ہو۔
پٹھان بولا ، یہ جیو نیوز والوں کو کیسے پتا چلا کہ ہم ٹی وی دیکھ رہے ہیں، ابھی جیو نیوز والوں کا لڑکی بول رہا تھا ” آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں جیو نیوز “





ایک پٹھان پردے کے دکان مِیں گیا

سیلزمین نے پوچھا کیا چاھیے
پٹھان بولا پردا چاھیے
سیلزمین نے پوچھا کس قسم کا اور رنک کیسا چاھیے
پٹھان بولا گلابی رنک کا میرے کمپیوٹر کیلیے
سیلزمین حیرت سے بولا مگر کمپیوٹر کے لیے تو کسی پردے کی ضرورت نہیں
پٹھان بولا ہم نے ونڈوز انسٹال کیا ھے اس کے لیے ضرورت ھے





پٹھان سردار سے : پانچ جانوروں کے نام بتاؤ جو پانی میں رہتے ہیں

سردار: مینڈک
پٹھان: اور بتاؤ
سردار: مینڈک دا پیو، مینڈک دی ماں، بھائی اور بہن
پٹھان: شاباش





ایک محفل میں شبیر حسن خان المعروف جوش ملیح آبادی اپنی نظم سنا رہے تھے تو کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے (جو کہ جوش کے قریبی دوست تھے) حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

"دیکھیے کم بخت پٹھان ہو کر کیسے عمدہ شعر پڑھ رہا ہے۔"
جوش صاحب نے فورا جواب دیا۔
"اور دیکھو، ظالم سکھ ہو کر کیسی اچھی داد دے رہا ہے





ایک بار ایک بہت ڈرا سہما سا پٹھان کلینک میں داخل ہوا اور ہانپتے ہوئے کہنے لگا

" بھاگو بھاگو ، بھاگو بھاگو " ۔
سارے ڈر کے مارے کلینک سے باہر آ گے ، کہ پتہ نہیں کسی نے یہاں‌ بھی کوئی بم وم نہ رکھ دیا ہو ۔
لوگوں نے باہر آ کر خان صاحب سے پوچھا ، خان بھائی ، آخر بات کیا ہے ۔
خان بھائی :‌ " کچھ نہیں‌ ۔ بس بھاگو بھاگو ، بھاگو ۔ "
لوگوں نے پھر پوچھا خان صاحب کوئی وجہ تو ہو گی ۔
خان صاحب : " او مڑا اِس طرح بندہ فِٹ رہتا ہے "





پانچ سردار اور ایک پٹھان ایک ہیلی کاپٹر کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے(رسی پکڑے ہوئے)۔

پائلٹ نے کہا کہ وزن زیادہ ہو گیا ہے تم میں سے کوئی ایک چھلانگ لگا دے ورنہ سب مارے جائیں گے۔
پٹھان نے کہا کہ یہ قربانی وہ دے گا۔
اس پر سارے سردار اس کو داد دینے کے لیئے تالیاں بجانے لگے





ایک پٹھان بس میں جا رہا تھا، سامنے بیٹھی عورت اپنے بچے کو بار بار بول رہی تھی کہ :”جلدی سے یہ بسکٹ کھا لو ورنہ میں ان انکل کو دے دوں گی“

پٹھان تنگ ھو کے بولا : ”خالہ جلدی فیصلہ کرو میں پہلےہی چار سٹاپ اگے آ گیا ھوں“





دو پٹھان جلدی جلدی مسجد میں داخل ہوئے۔


جلدی سے جوتے اتار کر گرتے پڑتے صف میں شامل ہو گئے ۔
نماز کے بعد پہلا پٹھان دوسرے سے کہتا ہے کہ: ”شکر ہے نماز نہیں نکلی“
دوسرا جواب دیتا ہے :”ہاں یار اگر وضو کے چکر میں رہتے تو نماز نکل جاتی۔“





پٹھان ڈاکٹر سے : مجھے بیماری ہے کہ کھانے کے بعد بھوک نہیں لگتی! ،سونے کے بعد نیند نہیں آتی! ،کام کروں تو تھک جاتا ہوں! ،پانی پی لوں تو پیاس نہیں لگتی!

ڈاکٹر: کوئی بات نہیں آپ کا مرض قابلِ علاج ہے ایسا کرو کہ ساری رات دھوپ میں بیٹھو انشااللہ ٹھیک ہو جاو گے!





ٹیچر پٹھان سے: جس کو سنائی نہ دے اُسے انگلش میں کیا کہیں گے؟

پٹھان: جو مرضی کہہ دو اُس کو کون سا سنائی دے گا۔





ڈاکٹر: تمھیں برین کینسر ہے۔

پٹھاں نے خوش ہو کر چھلانگیں لگانے لگا۔
ڈاکٹر:تم اتنے خوش کیو ہو رہے ہو؟
پٹھان:کیونکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ " میرے پاس برین ہے "۔





پٹھان ایک لڑکی کو مسلسل دیکھے جا رہا تھا

لڑکی نے غصے سے پوچھا:”کیا دیکھ رھے ھو ؟“
پٹھان: ”ھم دیکھ رہا ھے کہ اگر تم ھمارا ماں ھو تا تو ھم بھی بہت خوبصورت ھوتا“









پٹھان ڈاکٹر سے : مجھے بیماری ہے کہ کھانے کے بعد بھوک نہیں لگتی!

سونے کے بعد نیند نہیں آتی!
کام کروں تو تھک جاتا ہوں!
پانی پی لوں تو پیاس نہیں لگتی!
ڈاکٹر: کوئی بات نہیں آپ کا مرض قابلِ علاج ہے ایسا کرو کہ
ساری رات دھوپ میں بیٹھو انشااللہ ٹھیک ہو جاو گے!







جیل میں کسی نے پٹھان سے پوچھا کہ تم سے ایسا کیا غلطی ہو ا کہ تم آج جیل میں ہو؟

پٹھاں: میں نے بینک لوٹا اور وہیں پیسے وہیں گننے بیٹھ گیا.





ڈاکٹر پٹھان سے: تم ہر روز کلينک ميں آکر عورتوں کو گھورتے ہو

پٹھان: ڈاکٹر صاحب آپ نے خود ہی کلينک کے باہر لکھا ہوا ہے. عورتوں کو ديکھنے کا ٹائم 9 سے 12 بجے تک










ایک پٹھان نے سردار کو جوتا مارا۔ سردار کو جوتا بہت زور سے لگا۔ وہ غصے سے بھرا پٹھان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا

تم نے مجھے جوتا غصے سے مارا ہے یا مزاق سے
پٹھان: میں نے غصے سے مارا ہے
سردار: اچھا پھر ٹھیک ہے۔ ورنہ میں اس قسم کا مزاق پسند نہیں کرتا

No comments:

Post a Comment